ماں کی سہیلی



ہیلو دوستو میرا نام یاسر ہے اور میں راولپنڈی میں رہتا ہوں. میری ماں کی ایک دوست تھی شازیہ جو گورنمنٹ سکول میں ٹیچر تھی اور میری ماں کی ہم عمر ہی تھی ۔

 اسکی شادی کو کافی سال ہو چکے تھے مگر اسکے ہاں بچہ نہیں تھا. شازیہ نے پسند کی شادی کی ہوئی تھی اور وہ اپنے شوہر عامر کی ساتھ خوش تھی. شازیہ میری ماں کی قریبی دوست تھی اور ایک دن وہ روتی ہوئی میری ماں کے پاس آئی اور بولی کہ میری ساس میرے شوہر کی دوسری شادی کروانا چاہتی ہے. مجھ میں کوئی کمی نہیں. ماں بولی اسکا حل نکالا جا سکتا ہے تم ٹینشن مت لو. 

ماں نے شازیہ سے کہا مسلہ بچے کا ہے تو تم کسی اور سے سیکس کر کے حاملہ ہو جاؤ تمہاری زندگی کا معاملہ ہے اور کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا. شازیہ بولی نسرین ایسے کیسے ہو سکتا ہے اور کوئی مجھے بعد میں بلیک میل کرے تو میں تو مزید مصیبت میں پھنس جاؤں گئی. ماں بولی یہ تم مجھ پر چھوڑ دو میرے پاس ایک راستہ ہے جو تمہاری ہر پریشانی کا حل ہے اور تمہیں کوئی بلیک میل بھی نہیں کرے گا. شازیہ بولی کون ہے جو مجھے حاملہ کرے گا 

تو ماں بولی میرا بیٹا یاسر، اسکو تم اپنی طرف مائل کر کہ با آسان چدوا سکتی ہو. 

پھر ماں نے شازیہ آنٹی کو چائے دی اور اب شازیہ آنٹی خوش تھی. ماں میرے پاس آئی اور بولی تجھے میرا ایک کام کرنا ہو گا. میں ماں اور شازیہ کی باتیں سن چکا تھا لیکن انجان بنتے پوچھا کونسا کام کرنا ہے. 

ماں بولی دس دن تک میری دوست شازیہ کی جم کر چدائی کرنی ہے اتنی کہ وہ تیرے بچے کی ماں بننے والی ہو جائے. میں نے کہا ماں یہ کیا بول رہی ہو

اب میری ماں مجھے اپنی چوت کے ساتھ اپنی سہیلیوں کی بھی چوت کا مزا دلوائی گی

پھر ماں نے شازیہ کو کہا جب عامر نہیں ہو گا تو میں یاسر کو تیرے گھر بھیج دوں گی. شازیہ بولی عامر دو دن بعد 2 ہفتے کے لیے ملتان کمپنی کے کام سے جا رہا ہے تم رات کو اسکو بھیج دیا کرنا کہ میرے گھر میں کوئی نہیں ہے تو رات رک جایا کرے. دو دن کے بعد ماں بولی تجھے آج رات شازیہ کے گھر جانا ہے اور اچھے سے چدائی کرنا جیسے میری چدائی کرتا ہے. میں نے کہا ماں فکر نہ کرو وہ تجھے خود بتائے گی. 

میں رات 8 بجے شازیہ کے گھر پہنچ گیا اور شازیہ آنٹی نے کھانا کا پوچھا تو میں نے کہا میں کھا کر آیا ہوں. شازیہ آنٹی نے چائے بنائی وہ ہم دونوں نے اکٹھے پی اور ٹی وی دیکھ رہے تھے. پھر شازیہ آنٹی نے کہا یاسر تیری پڑھائی کیسی جا رہی ہے میں نے کہا آنٹی اچھی جا رہی ہے.

شاریہ 38 سالہ عورت تھی جسکا جسم بھرا بھرا ہوا تھا. ممے اور چوتر کافی بڑے تھے اور رنگ کی سانولی تھی. کچھ دیر کے بعد شازیہ آنٹی بولی میں سونے جارہی ہوں تو میں نے جان بوجھ کر کہا میں یہاں ٹی لاؤنچ میں سو جاتا ہوں تو شازیہ آنٹی بولی نہیں اندر کمرے میں سو جاؤ. میں جب اندر گیا تو شازیہ آنٹی نے کپڑے بدل کر نائٹی پہن رکھی تھی. اب شازیہ آنٹی نے بتی بجھا دی اور ہم دونوں بیڈ پر لیٹ گئے میری آنکھوں سے نیند دور تھی اور میرا لن بھی ٹایٹ ہو چکا تھا. 

کچھ دیر کے بعد میں نے جب کروٹ بدلی تو دیکھا شازیہ آنٹی کے چوتر بلکل ننگے اور میری طرف تھے اور شازیہ آنٹی نے کالا جالی دار انڈر وئیر پہنا ہوا تھا. میں سمجھ گیا یہ سگنل ہے شازیہ آنٹی کا تو میں نے شازیہ آنٹی کے چوتر پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا اور ساتھ ہی پھدی پر ہاتھ پھیرنے لگا. شازیہ آنٹی جاگ رہی تھی فوراً بولی یہ کیا کر رہے ہو یاسر؟ 

تو میں بھی جلدی سے شازیہ آنٹی کے ہونٹ چوسنے لگا. شازیہ آنٹی اب مسکراتے ہوئے ساتھ دینے لگی. شازیہ آنٹی نے میری قمیض اتار دی اور اپنی نائٹی اتار دی اب شازیہ آنٹی کے 38 سائز ممے میرے سامنے تھے جنکے براؤن نپلز تنے ہوئے تھے. میں نے شازیہ آنٹی کا انڈر وئیر اتار دیا اور شازیہ آنٹی نے میری شلوار اتار کر میرا لن باہر نکال کر پکڑ لیا اور اپنے ہاتھوں میں سختی سے پکڑ کر ہلانے لگی.

 پھر میں اور شازیہ آنٹی لیٹ گئے اور شازیہ آنٹی میرے اوپر آکر میرے ہونٹ چوسنے لگی میں ساتھ ساتھ شازیہ آنٹی کی چوت کو سہلا رہا تھا جس میں سے پانی بہہ رہا تھا. میری انگلیاں شازیہ آنٹی کے چوت کے پانی سے گیلی ہو چکی تھی. اب میں شازیہ آنٹی کے ممے چوسنے لگا اور شازیہ آنٹی کی سسکیاں پورے کمرے میں گونج رہی تھی اور شازیہ آنٹی کا ہاتھ میرے لن پر ہی تھا.

اس کے بعد شازیہ آنٹی نے میرا لن چوسنا شروع کر دیا شازیہ آنٹی زور زور سے میرا لن چوسے جا رہی تھی اور میرے لن کے ساتھ میرے ٹٹے بھی چوس رہی تھی شازیہ آنٹی بہت جوش میں اور گرم ہو کر میرا لن چوسے جارہی تھی. اب شازیہ آنٹی بولی کبھی عورت کی پھدی چاٹی ہے؟ 

میں نے مسکرا کر کہا نہیں تو پھر بولی چل آج چکھ مزا عورت کی پھدی کا مستقبل میں تیری بیوی کی پھدی بھی تجھے چاٹنا ہو گئی اور شازیہ آنٹی میرا سر پر ہاتھ رکھ کر اپنی ٹانگیں کھول کر اپنی پھدی پر دبانے لگی. شازیہ آنٹی کی پھدی بلکل صاف تھی اور بہت گیلی تھی شاید وہ فارغ بھی ہو چکی تھی میں نے شازیہ آنٹی کی چوت کو اچھے سے صاف کیا اور پھر پھدی کا سوراخ ہی منہ میں لے کر زبان مارنے لگا. شازیہ آنٹی پورے جوش میں تھی اور میں اب شازیہ آنٹی کی پھدی کو دانتوں سے ہلکا ہلکا کاٹ کر مزا دے رہا تھا. کچھ منٹوں کے بعد شازیہ آنٹی فارغ ہو گئی.

شازیہ آنٹی نے مجھے لیٹنے کو کہا میں لیٹ گیا تو شازیہ آنٹی نے اوپر آکر لن کو پکڑ کر اپنی پھدی میں لے لیا اور اپنی پھدی میرے لن پر زور زور سے مارنے لگی. میں بہت مزے میں تھا اور شازیہ آنٹی کی پھدی بھی کافی ٹائٹ تھی. کچھ دیر بعد شازیہ آنٹی کو میں نے نیچے لٹا کر ٹانگیں اٹھا دی اور لن شازیہ آنٹی کی چوت میں دے کر گھسے مارنے لگا. زور دار گھسے مارتے ہوئے میں اور شازیہ آنٹی زور زور سے آوازیں نکال رہے تھے آہ بہت مزا آریا ہے. پھر میں نے جھٹکے تیز کیے شازیہ آنٹی سمجھ گئ کہ میری منی نکل رہی ہے اور شازیہ آنٹی نے پھدی ٹائٹ کردی اور میرے لن کی ساری منی شازیہ آنٹی کی پھدی نے نچوڑ لی. میں شازیہ آنٹی کے اوپر لیٹ گیا ہم دونوں پسینے میں ڈوبے ہوئے تھے. 

میں نے کہا کیوں آنٹی مزا آیا تو شازیہ بولی بہت تمہاری منی میرے اندر تک گئ ہے. پھر شازیہ آنٹی نے میرے لن کو چوس کر صاف کیا. اس رات میں نے شازیہ آنٹی کو دو بار چودا جب گھر گیا تو ماں نے پوچھا مزا آیا شازیہ کی پھدی چود کر میں نے کہا بہت مزا آیا لیکن تم بتاؤ تمہاری پھدی چودی آفتاب انکل نے کہ نہیں۔ ماں بولی چل بدمعاش میں کہا بتاؤں نا تو ماں نے کہا تجھے کیسے پتہ چلا رات آفتاب کو بلوایا تھا میں نے؟ 

میں نے کہا جب رات میں گھر سے گیا تو آپ کے پاس فل موقع تھا نا

 ماں بولی 20 منٹ پہلے گیا ہے ساری رات چودتا رہا ہے ماں کی حالت دیکھ کر لگ رہا تھا کہ اس نے رات جنگلیوں جیسے چودا ہوگا لیکن ماں سکون میں اور خوش تھی اور بولی جتنی راتیں تو شازیہ کے ساتھ ہوگا آفتاب ہر رات مجھے چودنے آئے گا. 

میں ماں کی باتیں سن کر گرم ہو گیا تھا اور کہا شلوار اتار تیری پھدی دیکھنی ہے ماں بولی میں تھکی ہوئی ہوں میں سمجھ گیا کہ ڈرامے کر رہی ہے میں نے ماں کی شلوار زبردستی اتار دی اور جب ٹانگیں اٹھایا تو ماں کی پھدی پر سفید سفید مادہ خشک ہوا چپکا تھا۔ میں نے لن اس کی چوت میں رکھ تو خود بہ خود اندر گھس گیا اب میں زور زور سے چودنے لگا جب منی نکال دی تو ماں نہانے چلی گئی. اور اگلے دس دن تک شازیہ آنٹی کو چودنا تھا لیکن ایک ہفتے بعد ہی پتہ چلا کہ شازیہ آنٹی پریگنٹ ہے اور اب وہ کوئی رسک نہیں لینا چاہتی تھی اس لئے پھر مجھ سے پھدی نہیں چدوائ ہاں لیکن آج اسکی گود میں میرا بچہ ہے جسے اسکا شوہر اور سسرال والے اپنا بچہ سمجھتے ہیں

Previous Post Next Post